یہاں ہر قسم کی گستاخی کی اطلاع دیں !
گستاخ لنک جمع کرائیں
یہاں گستاخ لنک جمع کرائیں!
ممبر بنئے

٭٭آج کی اچھی بات طریق الحق انٹرنیشنل کے ساتھ٭٭

ناموس رسالت ﷺ کے بارے میں غیرت الہٰی اس قدر حساس ہے کہ قرآن نے گستاخان رسول کو ہمیشہ سخت لہجے میں جواب دیا ان پرلعنتیں بر سا ئیں اور ان کو عذاب الیم کی وعیدیں سنائیں مثلاً ابو لہب کے بارے میں سورة لہب نازل ہوئی امیہ بن خلف کے بارے میں سورة ہمز اور ابی بن خلف کے بارے میں سورة یٰسین 78تا83،عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں سورة فرقان آیات 23تا31ولید بن مغیرہ کے بارے میں سورة زخرف آیت 31تا32اور القلم آیات 8سے12،نفر بن الحارث کے بارے میں سورة لقمان آیت7,6اور عاص بن وائل سہمی کے بارے میں مکمل سورة کوثر نازل ہوئیں یہ تو رب ذالجلال کا توہین رسالت کرنے والوں کے بارے میں سخت رد عمل تھا ان سب دشمنوں کا خوفناک انجام کسے معلوم نہیں ابو لہب اس کے بیٹے عقبہ، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل سہمی کی موتیں بڑی عبرتناک تھیں پھر خود رسول مقبول ﷺ کے حکم پر اس طرح کے پندرہ کے لگ بھگ گستاخوں کا قتل اور عبرتناک انجام سب کے سامنے ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کی اطاعت اور اتباع مسلمانوں پر واجب قرار دی تو اس کے لئے دلوں میں حب رسول ﷺ کا جذبہ پیدا کیا اور توہین رسالت ﷺ سے خود اللہ کریم نے حضرت محمد ﷺ کا دفاع کیا اور مسلمانوں پر بھی رسول اکرم ﷺ کی عزت و ناموس اور آبرو کا احترام کرنا اور اس کی حفاظت کرنا واجب قرار دیا جب تک آپ ﷺ کی سچی محبت دل میں موجود نہیں کوئی آپ ﷺ کی پیروی کیسے کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و محبت کیسے حاصل کرسکتا ہے۔ایک مسلمان کے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ کی محبت عین ایمان ہے مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی شان اقدس میں ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔حضور خاتم النبین ﷺ اور امت مسلمہ کے مابین وہی ربط تعلق ہے جو جسم و جان کا ہے آپ ﷺ کی ناموس ملت اسلامیہ کا اہم ترین فریضہ ہے مسلمان آپ ﷺ کی توہین ،تنقیص ،بے ادبی برداشت نہیں کر سکتا وہ اپنے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس پر مر مٹنے اور اس کی خاطر دنیا کی ہر چیز قربان کرنے کو زندگی کا مقصد سمجھتا ہے اس پر تاریخ کی کسی جرح سے نہ ٹوٹنے والی ایسی شہادت موجود ہے جو مسلمہ حقیقت بن چکی ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو خواہ وہ ایشیا ہو یا یورپ، افریقہ ہو یا کوئی خطہ ارض جہاں بھی اقتدار رہا وہاں کی عدالتوں نے اسلامی قانون کی رو سے شاتمان رسول ﷺ کے لئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا اس کے بر عکس جب کبھی یا جہاں ان کے پاس حکومت نہیں رہی وہاں جانثاران رسول ﷺ نے غیر مسلم حکومتوں کے رائج الوقت قانون کی پرواہ کئے بغیر گستاخانِ رسول ﷺ کو کیفر ِ کردار تک پہنچایا اور خود ہنستے مسکراتے تختہ دارپر چڑھ گئے اور نسل نو کو یہ پیغام دے گئے۔
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

در اصل ایمان نام ہے محبت رسول ﷺ کا، حب رسول ﷺکا، محبت رسول ﷺ اور حب رسول ﷺ کے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے بلکہ مسلمان ہونے کی شرط اولین، عشقِ رسولﷺ ہے۔

Leave a Reply